بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ کونسل برائے سائبر اسپیس کے رکن سید عزت اللہ ضرغامی نے، امریکہ کی طرف سے روس سے تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثی کی درخواست، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: تیل کی قیمت تیزی سے بڑھ رہی تھی اور یہ معاملہ امریکہ پر دباؤ کا ایک اور بھاری ذریعہ بن سکتا تھا۔
انھوں نے مزید کہا: وٹکاف نے پیوتن کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ امریکہ نے روس سے ثالثی کی درخواست کی ہے تاکہ ایرانی امریکیوں کے ساتھ ایک ہی میز پر بیٹھیں۔
وٹکاف نے مزید کہا: واشنگٹن کو اب ثالثوں کی ضرورت نہیں اور وہ ایران کے ساتھ براہ راست اور آمنے سامنے مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے۔
ضرغامی نے بتایا کہ ان درخواستوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکیوں کے لئے ایرانیوں کے ساتھ تصویر کھنچوانا، سلیفی بنوانا اور ایک میز پر بیٹھنا اہمیت رکھتا ہے۔
انھوں نے کہا: وٹکاف امریکہ نے ماسکو جاکر پیوتن سے ایران اور امریکہ کے براہ راست مذاکرات کے لئے ثالثی کی درخواست کی۔
انھوں نے واضح کیا: پیوتن نے بھی دو افراد ایران بھیجے تاکہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری جناب رضائی سے ملاقات کریں اور روس کی طرف سے ایران کی حمایت اور مثبت جواب کی اپیل کریں؛ اور ان نمائندوں نے ایک قسم کی ہم آہنگی اور تعاون کی خواہش کی۔
انھوں نے یاددہانی کرائی: ہمارا جواب قدرتی طور پر منفی تھا، کیونکہ ہم اس معاملے پر توجہ دیتے ہیں اور ہمارے نزدیک یہ حساس معاملہ ہے؛ اس کے باوجود، جنرل رضائی نے پیوتن سے ٹیلی فونک گفتگو میں، انقلاب اسلامی کے رہبرِ عزیز کی طرف سے ان کی طرف دوستی کا پیغام پہنچایا اور روس کے صدر کی توجہ اور تعاون کا شکریہ ادا کیا۔
ان کا کہنا تھا: یہ بھی اعلان کیا گیا کہ جناب رضائی اور جناب پیوتن کے درمیان ایک ملاقات ہوگی تاکہ اس معاملے پر مزید تفصیل سے بات کی جا سکے۔
انھوں نے کہا: بہرحال ہم نے وہ درخواست درحقیقت، قبول نہیں کی۔
انھوں نے کہا: چند روز قبل ہی اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری میجر جنرل رضائی اور صدر پیوٹن کی ملاقات کا پروگرام طے ہؤا تھا اور امریکی کانگریس کے ضمنی انتخابات میں ٹرمپ کی شکست کے بعد پروگرام کے مطابق، ماسکو کا دورہ کیا اور صدر پیوتن سے ملاقات کی تاکہ ایران کا بالمشافہہ روس کے صدر کے لئے واضح کر دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ